پاکستان آہستہ آہستہ کرونا وائرس کی تباہی کی جانب بڑھ رہا
ہے،بلاول بھٹو
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی پہلی خاتون لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے اورچیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کرونا وائرس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان "آہستہ آہستہ” کرونا وائرس کی تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وبائی مرض کے ردعمل کی خصوصیت وفاقی حکومت نے لاک ڈاون تک محدود کر رکھی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان پر مغربی ممالک میں کرونا وائرس سے مرنے والے افراد کی تعداد کی سطح تک پہنچنے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ جس کی جانب پاکستان آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے ۔ تاہم پاکستان میں سلامتی کے لحاظ سے ایک غلط احساس ضرور ہے جو ہم نے بحران کے آغاز سے ہی دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب تک مجموعی طور پر 5،230 واقعات میں سے 93 اموات ریکارڈ کی جاچکی ہیں جبکہ ہمارا غریب ملک 215 ملین افراد پر مشتمل ہے جن میں سے بہت سے لوگ تنگ ، کثیر الجہتی گھرانوں میں رہتے ہیں۔ جو کرونا کو پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
ہم نے سائنس اور حقائق کو نظر انداز کیا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر جو کچھ ہمارے آس پاس ہو رہا ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور جس کی وجہ سے ہمیں بروقت اور ضروری کاروائی کرنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
بلاول بھٹو کا خبررساں ادارہ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو یہ کہتے ہوئے خصوصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ پاکستان اقتصادی نقصان کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاون کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اسکولوں اور کمپنیوں کو بند کرتے ہوئے انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے سے روکا جو کہ حقیقت میں لاک ڈاون ہے۔ تاہم اب معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے حکام پر پابندیاں نرم کرنے کے لیے دباؤ ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلا کرونا کا کیس سندھ میں سامنے آیا جو پاکستان پیپلزپارٹی کے زیر اقتدار ہے جبکہ وہاں کے عہدے داروں نے گزشتہ ماہ ہی لاک ڈاؤن کا حکم دے دیا تھا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ صحت کے مشیروں ، ماہرین تعلیم اور دیگر ماہرین نے پورے پاکستان میں سخت اقدامات کی سفارش کی ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے۔
